15 اگست 2011 - 19:30

برطانيہ کي لبرل ڈيموکريٹ پارٹي کے ايک رکن پارليمنٹ جوليان ليئون ہيوپرٹ نے ، مخالفين کے خلاف وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون کے مجوزہ منصوبے کي سخت مذمت کي ہے -

ابنا: قابل ذکر ہے کہ وزيراعظم ڈيوڈ کيمرون نے کہا ہے کہ سوشل انٹرنيٹ نيٹ ورک تک مخالفين کي دسترسي روک ديني چاہئے -

برطانيہ کي لبرل ڈيموکريٹ پارٹي کے رکن پارليمنٹ جولين ہيوپرٹ نے وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون کي جانب سے سوشل نيٹ ورکنگ سائٹيں بند کرنے کے اعلان کي مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا اعلان برطانوي عوام کو تاريک دور کي تاريخ کي ياد دلاتاہےـ جولين ہيوپرٹ نے کہا کہ مخالفين سے نمٹنے کے لئے سوشل نيٹ ورکنگ سائٹوں کو بند کرنا غير قانوني عمل ہے جس سے ملک ميں شہري زندگي مختل ہو جائے گي ـ برطانوي رکن پارليمنٹ نے کہا کہ برطانيہ کي موجودہ حکومت شہريوں کي آزادي کے نعرے کے ساتھ برسر اقتدار آئي تھي اور اس نے ووٹروں سے وعدہ کيا تھا کہ ليبر پارٹي کے دور حکومت ميں عوام کي جو آزادي سلب کر لي گئي تھي اسے بحال کيا جائے گا ليکن آج ہم ديکھ رہے ہيں کہ حکومت شہريوں کي معمولي سے معمولي آزادي سلب کرنے کے در پے ہےـ

برطانيہ ميں چھے اگست سے مظاہرے شروع ہوئے ہيں اور پوليس نے مظاہرين کي سرکوبي کے لئے وسيع پيمانے پر اقدامات کئے ہيں اور بڑي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کيا گيا ہےـ پوليس کا کہنا ہے کہ مظاہروں ميں شرکت کرنے والے افراد کي گرفتاري کا سلسلہ اب بھي جاري ہے اور تقريبا تين ہزار افراد گرفتار ہو چکے ہيں ـ رپورٹ کے مطابق لندن اور ديگر شہروں ميں پوليس اہلکار گھر گھر تلاشي ليکر مظاہروں ميں شرکت کرنے والے افراد کو گرفتار کر رہے ہيں ـ پوليس نے کم عمر کے لڑکوں کو بھي گرفتار کيا ہےـمظاہروں ميں شرکت کرنے والوں ميں زيادہ تعداد ان سياہ فام افراد کي ہے جو برطانيہ ميں سماجي اور اقتصادي تفريق کي وجہ سے شديد مشکلات ميں مبتلا رہے ہيں اور انہيں روزگار کے مواقع نہيں مل رہے ہيں ـايسا لگتا ہے کہ لندن ميں مظاہرين کے خلاف پوليس کے تشدد آميز رويئے سے بحران اور بھي بڑھتا جا رہا ہے اور عدم استحکام کا دائرہ پھيل رہا ہےـ............

/169